HomeLocalاپیکس کمیٹی اجلاس: وزیراعظم کا خیبر پختونخوا میں امن و ترقی کی...

اپیکس کمیٹی اجلاس: وزیراعظم کا خیبر پختونخوا میں امن و ترقی کی بحالی کا عزم

پشاور: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث سخت فیصلے کرنا پڑے۔ وفاقی حکومت اور عسکری قیادت مل کر صوبے میں امن، ترقی اور خوشحالی کا دور واپس لانے کے لیے اقدامات کریں گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں دہشت گردی کے دوبارہ بڑھنے کی ایک بڑی وجہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دورِ حکومت میں دہشت گردوں کو واپس بلانا اور پولیس و انسدادِ دہشت گردی کے نظام کو نظر انداز کرنا تھا۔

وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار خیبر پختونخوا کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا غیور اور بہادر لوگوں کا خوبصورت صوبہ ہے، تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران پیدا ہونے والے حالات نے اسے بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ صوبے میں امن اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد فرمائے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں نے بے پناہ قربانیاں دے کر 2018 تک خیبر پختونخوا سمیت ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا تھا۔ اس جنگ میں 80 ہزار افراد شہید ہوئے اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ان کے مطابق امن کے قیام میں سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ماؤں، بہنوں، بچوں اور صوبے کے متعدد سیاسی خاندانوں نے بھی قربانیاں دیں۔

وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ امن قائم ہونے کے بعد پی ٹی آئی کے دور میں دہشت گردوں کو دوبارہ بلایا گیا، جس سے گزشتہ برسوں کی قربانیاں ضائع ہوئیں اور صوبے کے عوام کو دوبارہ دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کے بچوں کے مستقبل کے لیے جانیں قربان کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو نظر انداز کرنے سے بڑی ملک دشمنی کوئی نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے سابق صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم، صحت، امن عامہ اور عوامی فلاح کے شعبوں کو نظر انداز کیا گیا۔ ان کے مطابق گزشتہ صوبائی حکومت کے دور میں پولیس کی پانچ ہزار آسامیوں پر بھرتیاں نہیں کی گئیں، سیف سٹی منصوبہ نامکمل رہا اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) سمیت پولیس کی تربیت اور استعداد بڑھانے پر مناسب توجہ نہیں دی گئی۔

شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے خیبر پختونخوا کو اضافی وسائل فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق وفاق اور تمام صوبوں نے اپنے حصوں میں سے ایک فیصد اضافی رقم صوبے کو دینے پر اتفاق کیا اور 2010 کے بعد سے انسدادِ دہشت گردی کے لیے خیبر پختونخوا کو تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے گئے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اتنے وسائل کے باوجود صوبے میں دہشت گردی دوبارہ بڑھ گئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مسلسل محنت کی اور سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے معیشت میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کو مزید بدامنی اور خونریزی کا شکار رہنے دیتی؟ ان کے مطابق انہوں نے صوبے کی صورتحال پر صدر مملکت آصف علی زرداری سے دو مرتبہ مشاورت کی، جبکہ سیاسی کمیٹی نے 48 گھنٹے تک مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی کوشش کی۔

شہباز شریف نے کہا کہ صوبے کے حوالے سے کیے گئے فیصلے آئین اور قانون کے دائرے میں ہیں۔ انہوں نے اس ضمن میں تمام اتحادی جماعتوں، صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ایک مشاورتی کونسل بھی قائم ہو چکی ہے۔

وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں مبینہ بدعنوانی کے معاملات کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ صاف پانی کے منصوبے میں 100 ارب روپے کی کرپشن ہوئی، جبکہ کوہستان میگا اسکینڈل میں 37 ارب روپے کی بدعنوانی سامنے آئی۔ انہوں نے پلیسر گولڈ منصوبے میں من پسند افراد کو ٹھیکے دینے کا بھی دعویٰ کیا۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام گزشتہ 13 برس سے اپنے مسائل کے حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے منتظر ہیں۔ وفاقی حکومت صوبائی عوام کی محرومیوں کے خاتمے کے لیے عسکری قیادت کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا میں امن، ترقی اور خوشحالی واپس لائی جائے گی اور عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments